نئی دہلی،8؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کے بعد ۲۴؍ گھنٹے کے اندر شنوائی اور فوری رہائی سے حوصلہ پاکر ارنب گوسوامی نے سپریم کورٹ میں تازہ پٹیشن داخل کرکے اپیل کی تھی کہ عدالت مہاراشٹر پولیس کوان کے چینل کے کسی بھی ملازم کو گرفتارکرنے سے روک دے نیز جانچ سی بی آئی کو منتقل کردے۔ جسٹس چندر چڈ نے اس پٹیشن کو’’کچھ زیادہ ہی خواہشمندی‘‘ پر مشتمل پایا اور ارنب کے وکیل ملند ساٹھے کو صلاح دی کہ بہتر ہوگا کہ وہ اسے واپس لے لیں۔ عدالت کی ہدایت پر ساٹھے نے ریپبلک ٹی وی اور ارنب گوسوامی کی جانب سے داخل کی گئی اس پٹیشن کو واپس لے لیا۔
امیش کے خلاف ایف آئی آر خارج نہیں کی گئی: دوسری طرف ایک اور بدزبان نیوز اینکر امیش دیوگن کو بھی سپریم کورٹ میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ امیش دیوگن نے ۱۵؍ جون کے اپنے ایک مباحثے میں خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے تعلق سے انتہائی نازیبا باتیں کہی تھیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں ایف آئی آردرج ہوئی تھیں۔ گوسوامی نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ ان تمام ایف آئی آرس کو کالعدم قراردیا جائے مگر کورٹ نے ان کی اس اپیل کو ٹھکرادیا۔ کورٹ نے امیش کو اتنی راحت دی ہے کہ ان کے خلاف درج ہونے والی تمام ایف آئی آر راجستھان کے شہر اجمیر منتقل ہوجائیں گی۔ اس کے ساتھ امیش دیوگن کی گرفتاری پر عائد پابندی بھی جاری رہے گی۔
ارنب کی درخواست قابل سماعت ہی نہیں: سپریم کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے مالکانہ حق رکھنے والی اے آر جی آئوٹ لائر میڈیا پرائیویٹ لمٹیڈ اور اس کے کارکنان کے خلاف مہاراشٹر میں درج ایف آئی آر میں ملزمین کو تحفظ دینے کی گزارش کرنے والی پٹیشن پر شنوائی سے ہی انکار کردیا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے معاملوں کو سی بی آئی کے حوالے کرنے سے بھی انکار کردیا۔ جسٹس چندر چڈ اور جسٹس اندرا بنرجی کی ۲؍رکنی بنچ نے کہا کہ یہ خلاف فطرت پٹیشن ہے چنانچہ اس پر سماعت ممکن نہیں ہے ۔